ابنا: اسرائیل کے حساس ترین ایٹمی پروگرام کے سربراہ شاؤل ہوریو کے گھر سے لیپ ٹاپ چرایا گیا تاہم فوجی خفیہ اداروں نے اس ہائی پروفائل اور حساس چوری کی خبر میڈیا تک لیک نہیں ہونے دی تھی ۔ تاہم بدھ کے روز ہوریو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس سربستہ راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے صرف اتنا بتایا گیا کہ اسرائیلی نیوکلئر پروگرام کے سربراہ گھر پر ڈکیتی کی کارروائی کا نشانہ بنے، جس میں ان کا پرس، مختلف دستاویزات اور 'مواصلاتی آلہ' چرا لیا گیا۔ ملک کے حساس ایٹمی پروگرام کے سربراہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو براہ راست جوابدہ ہوتے ہیں۔
بربنائے عہدہ ہوریو کو ملک کے اہم ٹاپ سیکرٹس بشمول ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں موساد کے خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے۔ اسرائیلی اٹامک کمیشن نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ہوریو کے چوری ہونے والے لیپ ٹاپ میں کوئی حساس معلومات نہیں تھیں۔ صہیونی ریاست کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شاؤل ہوریو کا یہ دوسرا لیپ ٹاپ ہے جسے چوری کیا گیا۔
شاؤل ہوریو کے ذاتی محافظوں اور ان کے بنگلے کی سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی کے باوجود یہ امر انتہائی حیرت کا باعث ہے کہ ان کے گھر میں مبینہ ڈکیٹی کی واردات کی گئی۔ یہ سہولت حکومت میں شامل وزراء کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔
عبرانی اخبار 'ہارٹز' نے جائے واردات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں شائع مشاہدات میں بتایا ہے کہ بادی النظر میں ڈکیٹی کے آثار کے طور پر گھر کے سامان کی الٹ پلٹ نہیں کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی ایک ایسی ہی واردات میں ان کا صرف کمپیوٹر چرایا گیا، تاہم اس کے متعلق یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ اسے ہوریو ذاتی استعمال میں لاتے تھے یا پھر وہ سرکاری امور کی انجام دہی میں ان کے استعمال میں رہتا تھا۔
.......
/169